ہم کہاں کے سچے تھے


ہم کہاں کے سچے تھے

 

کاہے مل کے بچھڑے تھے

آنسوؤں میں ڈوبے تھے

شکوہ بھی کیا کرتے

ہم کہاں کے سچے تھے

اکھیوں نے، کیوں اکھیوں سے

جوڑا ہے یوں دیوانوں سے

اکھیوں نے، تیری اکھیوں سے

باندھا ہے کیوں یوں عاشقوں سے


تیرے بن، تیرے بن

تیرے بن، تیرے بن

تیرے بن، ہائے، تیرے بن

تیرے بن، تیرے بن


ڈبیا وے، دل ڈبیا وے

سوچاں دے وچ ڈبیا وے

گہرے ہیں دکھ دریا یہ

پہنچوں کیسے ساحل پہ


اکھیوں نے، کیوں اکھیوں سے

جوڑا ہے یوں دیوانوں سے

اکھیوں نے، تیری اکھیوں سے

باندھا ہے کیوں تو نے عاشقوں سے


تیرے بن، تیرے بن

تیرے بن، تیرے بن

ایک پل میں بکھرے تھے

جیسے سوکھے پتّے تھے

دور تم سے ہو رہے تھے

ہو رہے تھے


ایک پل میں بکھرے تھے

جیسے سوکھے پتّے تھے

دور دل سے ہو رہے تھے

ہو رہے تھے


شکوہ بھی کیا کرتے

ہم کہاں کے سچے تھے

  


Comments